Home / News / NDMA organized a one-day Parliamentarian Caucus to discuss role of parliamentarians in Disaster Risk Reduction

NDMA organized a one-day Parliamentarian Caucus to discuss role of parliamentarians in Disaster Risk Reduction


Islamabad; 28 October, 2021:  National Disaster Management Authority organized a parliamentarian caucus in collaboration with the Ministry of National Food Security & Research and Ministry of Climate Change on disaster risk management. This was the second parliamentarian caucus on the subject, first was held in 2019. Participants from across the party lines including senators, members of national and provincial assemblies, officials from international agencies, humanitarian networks and Director Generals of Provincial Disaster Management Authorities participated in the caucus. 

The aim of the caucus was to highlight the role of parliamentarians in disaster management. It also aimed to develop understanding and promoting dialogue on various aspects of disaster risk management, international frameworks, gender equality and child protection. It further emphasized at capacity building of the Parliamentarians in supporting, promoting and implementing national agenda to build resilience. 

Chairman NDMA Lt Gen Akhtar Nawaz Satti welcomed the participants and in his opening remarks underscored the role of parliamentarians for disaster risk management. “People of Pakistan have always faced disasters with courage and resilience. We need national resolve, political commitment and institutional determination to make the country resilient, build the capacity of departments like NDMA and make Pakistan a disaster resilient country”, he added.

Chief Guest Syed Fakher Imam on the occasion appreciated efforts of NDMA for providing parliamentarians a platform to initiate dialogue on disaster risk management. The federal minister said that, “climate change and natural calamities result in disasters and their impact becomes acute threat to sustainable development and peaceful co-existence, if we fail to respond to these challenges with an understanding and collectively as a mission”. He further added; elected representatives are key to strengthening disaster risk governance by voicing needs and concerns of the land and people of respective areas. 

Hammad Azhar Minister Energy on the occasion said that “Since past two decades Pakistan has been facing various kinds of disasters. Need of the hour was to have structured organizations like NDMA who could respond immediately. Climate change is not going away, unfortunately these disasters are always around the corner, we need to learn from the past disasters and prepare for future, but other than resources we need effective management and coordination to deal with the disasters”. 

Minister of State for Climate Change Zartaj Gul lauded the initiative by NDMA and stated that, climate change stands today as one of the most critical threats to global development and we must focus on long term goals. Ministry of climate change has successfully undertaken numerous initiatives for climate change adaptation and mitigation. While appreciating the presence of parliamentarians she said that “I am confident after seeing this gathering here today, aiming to be aware and cautious for safe and resilient future of Pakistan that will enable the country to prepare in the face of any catastrophe. 

Parliamentarians actively participated in the caucus and suggested the ways out to deal with disaster risk management.


اسلام آباد28اکتوبر2021


 این ڈی ایم اے کی جانب سے اسلام آباد میں وزارت ِنیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ اور وزارت ِ موسمیاتی تبدیلی کے تعاون سے آفات کے خطرات کے تدارک کے لیے پارلیمانی کاکس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا دوسرا پارلیمانی کاکس تھا جبکہ2019 میں اس کے  پہلے مرحلے کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سینیٹرز، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، بین الاقوامی اورفلاحی اداروں کے نمائندگان سمیت تمام صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ڈائریکٹر جنرلزنے شرکت کی۔


پارلیمانی کاکس کے انعقاد کا مقصد قدرتی آفات سے متعلق سینیٹ و اراکین اسمبلی کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے حوالے سے بین الاقوامی فریم ورکس، صنفی برابری، اور بچوں کے تحفظ سے متعلق آگاہی اور مفاہمت پیدا کرنا تھا،مزید برآں پارلیمانی نمائندوں کو آفات سے نمٹنے کے حوالے سے اقدامات اور ان پر عمل درآمد کے لیے راہنمائی فراہم کرنا بھی پارلیمانی کاکس کے مقاصد کا حصہ تھا۔ 


چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ستی نے تقریب کے شراکاء کا خیر مقدم کیا اور اپنے ابتدائی کلمات میں قدرتی آفات سے نمٹنے اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے حوالے سے پارلیمانی نمائندوں کے کلیدی کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستانی عوام نے ہر قسم کی آفات کا ہمیشہ بڑے عزم و ہمت سے سامنا کیا ہے، ہمیں پاکستان کو محفوظ اور مضبوط ملک بنانے کے لیے قومی اور سیاسی عزم کی اشد ضرورت ہے تا کہ این ڈی ایم اے اور اس جیسے دیگر اداروں کے صلاحیتی دائرہ کار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کو مستحکم کیا جائے۔


مہمان خصوصی سید فخر امام نے پارلیمانی نمائندوں کو آفات سے نمٹنے کے حوالے سے ایک موئثر پلیٹ فارم مہیا کرنے پر این ڈی ایم اے کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات ہماری بقا اور ترقی کے لیے مستقل خطرہ بنتے جا رہے ہیں،ہمیں متحد ہو کران مسائل کا سامنا کر نا ہو گا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ منتخب نمائندے آفات سے نمٹنے کے حوالے سے اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


حماد اظہر وفاقی وزیر برائے انرجی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے متعدد آفات کا سامنا رہا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ این ڈی ایم اے جیسے ادارے موجود ہوں جوکسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موئثر اور بر وقت اقدامات اٹھا سکیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا تسلسل بڑھتا جا رہا ہے جس کے باعث متعدد آفات کا خطر ہ موجود رہے گا۔ ہمیں گزشتہ واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کے لیے تیاری کرنی ہے اور اداروں کے مابین معاونت و مفاہمت کو مزید بہتر بنانا ہے 


وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے ا س موقع پر این ڈی ایم اے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی ترقی کی راہ میں بہت بڑا خطرہ ہیں  ہمیں عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر طویل المدتی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔انہوں نے شراکاء کو بتایا کہ وزارت ِموسمیاتی تبدیلی نے ان تغیرات کے منفی اثرات کو کم کرنے اور ان کے تدارک کے حوالے متعدد اقدامات اور منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔انہوں نے پارلیمانی نمائندوں کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے ہم پاکستان کو آفات سے محفوظ اور مضبو ط بنانے کے لیے سنجیدہ ہیں اور اس سلسلے میں اٹھا ئے گئے موئثر اقدامات آفات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔


تمام پارلیمانی نمائندوں نے بھر پور انداز میں کا کس میں شرکت کی اور آفات کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے اپنی آراء و تجاویز سے آگاہ کیا۔